Urdu book · تاریخ کا سبق

پیچھے ہٹنا سب سے بڑا اقدام

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت حسن کا یہ عمل کسی قسم کی پسپائی یا فرار نہ تھا۔ یہ انتہائی مکمل سیاست تھی اور عین وہی چیز تھی جس کا نمونہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی سے قائم فرمایا ہے۔ اجتماعی زندگی کا معاملہ انتہائی نازک معاملہ ہے۔ اگر کوئی شخص صرف اقدام اور مقابلہ کی اصطلاحوں میں سوچنا جانتا ہو تو وہ کبھی اجتماعی اصلاح کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی مختلف الخیال قوتوں کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس میں ناقابل قیاس حد تک مختلف صورتیں پیش آتی رہتی ہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں طریق عمل کا کوئی ایک معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ ان طاقتوں کو سمجھا جائے جو بالمقابل محاذ میں مصروف کار ہیں، اور اپنی اور دوسروں کی حقیقی صورت حال کا موازنہ کر کے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کی جائے۔ یہ کام بیک وقت نہایت گہری نگاہ کا طالب ہے، اور اسی کے ساتھ نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ذہن کا بھی۔ اجتماعی مقابلہ میں کبھی اپنے آپ کو مکمل طور پر نظریاتی تبلیغ کے دائرہ میں محدود رکھنا پڑتا ہے۔ اس کی مثال مکہ کے ابتدائی بارہ سال ہیں۔ کبھی حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ فریق مخالف کے چیلنج کو میدان جنگ میں قبول کیا جائے۔ اس کی ایک مثال غزوہ بدر ہے۔ کبھی دوررس نتائج کو پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ فریق ثانی سے براہ راست تصادم کرنے سے بچا جائے خواہ اس کی قیمت یہی کیوں نہ ہو کہ فریق ثانی کے یک طرفہ مطالبات مان لینے پڑیں۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ ہے۔ اسلام کی اصطلاح میں یہ سیاست کا صبر ہے۔ جو شخص سیاست میں صابرانہ طریق کار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page