یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، نہ کہ محض پر جوش اقدام ۔ طارق بن زیاد (وفات 106ھ) رمضان 91ھ میں اسپین کے ساحل پر اتریے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر تھا ۔ ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو، ان کے لشکر نے چار کشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک "مورخ اسلام" لکھتے ہیں: ”اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے“۔ موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لد کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں۔ اس زمانہ میں ایسی کشتیاں وجود میں نہیں آئی تھیں، جن پر دو ہزار فوجی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بیک وقت بیٹھ سکیں ۔ اصل یہ ہے کہ ان لشکر یوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم سے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ بازنطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader