یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات کے علاقے اب بھی ہسپینی گورنر یلیان (کاؤنٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ یہاں رومیوں نے زبردست قلعہ بنایا تھا۔ موسیٰ بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انہوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ صلح کرلیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں افریقہ سے بازنطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے اپنے سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کرلیے۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اندلس سے برابر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر سے خود اپنے مفتوحہ براعظم میں صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے، انھوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کسی طرح کی۔ اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تاریخی مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ 400 ھ میں قوط (گاتھ) قبائل اسپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح مسیحی مذہب کو اختیار کرلیا، جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیار۔ گاتھ کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کر کے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے بازنطینی اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ (ٹالیڈو) پر گاتھ کا آخری بادشاہ وٹیکا (فیطشہ) حکمران تھا۔ وٹیکا کی بعض کمزوریوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader