Urdu book · تاریخ کا سبق

یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

سے اس کے ایک فوجی افسر زرریق (Radrick) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمران بن جائے۔ سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ویٹیکا کا رشتہ دار تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں زرریق سے وابستہ کر دیں۔ مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔ اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امراء کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تا کہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں ۔ زرریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔ لڑکی جوان ہوئی تو زرریق اس پر فریفتہ ہو گیا اور جبریہ طور پر اس کی عصمت دری کی۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دی۔ جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک زرریق کی سلطنت کو دفن نہ کرلے ، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولاً وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کر کے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکساکر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسیٰ کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page