Urdu book · تاریخ کا سبق

یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ 90ھ کا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی، کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: "مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگر تم پر امید ہو جب بھی ابتداء تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو۔" موسیٰ نے رمضان 91ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابو زرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے۔ یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کر کے دوبارہ واپس آگئے۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان 92ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کر کے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں، اور آج بھی، فاتح کی داستانوں میں اس قسم کے اضافے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page