اقدام سے پہلے تحقیق ضروری
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
لگا کر اس کو غلام کی معرفت مصر روانہ کر دیا تھا۔ مگر مصریوں نے اس کو خود خلیفہ سوم کی جانب سے سمجھا اور یہ رائے قائم کی کہ ان کے ساتھ غداری کی گئی ہے کہ ایک طرف تو عبد اللہ بن ابی سرح کی معزولی کا حکم نامہ ہم کو دیا گیا اور دوسری طرف عبد اللہ کو خفیہ خط روانہ کر دیا کہ ان سب لوگوں کو قتل کر دو اور تم اپنے عہدہ پر بحال رہو۔ چنانچہ وہ راستہ سے لوٹ آئے اور اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ دوبارہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔ ان کا ردّعمل اتنا شدید تھا کہ کسی کے سمجھانے بجھانے سے کم نہ ہو سکتا تھا۔ انھوں نے حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا اور بالآخر انھیں قتل کر ڈالا۔ اسی لیے قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کوئی خبر ملے تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے خوب تحقیق کرلو: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6) ۔ یعنی، اے ایمان والو! کوئی شریر آدمی تمھارے پاس خبر لائے تو خوب تحقیق کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم پر جا پڑو اور پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو قبیلہ بنی المصطلق کی زکوٰۃ قبول کرنے کے لیے بھیجا۔ قبیلہ کے لوگ ان کی آمد کو سن کر ان کے استقبال کے لیے نکلے۔ ولید کی اس قبیلہ سے زمانہ جاہلیت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader