تاریخ کا سبق
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ شکایت تھی، وہ سمجھے کہ یہ لوگ میرے قتل کے لیے نکلے ہیں، اس لیے وہ بستی میں داخل ہونے سے پہلے مدینہ واپس آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ قبیلہ کے لوگ میرے قتل کے درپے ہوگئے اور زکوۃ دینے سے انکار کر دیا۔ آپ نے ارادہ کیا کہ ان کی سرکوبی کے لیے حضرت خالد کی سرکردگی میں ایک فوجی دستہ روانہ کریں۔ اسی درمیان میں قبیلہ بنی المصطلق کے سردار حارث بن ضرار آگئے جو ام المومنین جویریہ کے والد بھی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے زکوٰۃ جمع کر رکھی تھی مگر ولید بن عقبہ ہمارے یہاں پہنچے ہی نہیں۔ ہم تو اسلام پر قائم ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7 ،صفحہ (370) اس پر حکم دیا گیا کہ جب کسی کے متعلق کوئی خبر ملے تو کاروائی کرنے سے پہلے پوری تحقیق کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ خبر غلط ہو اور اس کی بنا پر غلط اقدام کر بیٹھو۔ اختلاف کا نقصان کہاں تک عرب کے جزیرہ نما سے اسلام کا جو سیلاب اٹھا تھا، وہ اطراف کے تمام ملکوں پر اس طرح چھایا کہ ان کی زبان اور تہذیب تک بدل گئی۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ ایران کا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک اہم سوال ہے کہ وہ اسلام جس نے ان تمام پڑوسی ملکوں کی زبان اور تہذیب بدل دی، وہ ایران میں مذہبی تبدیلی کی حد تک کامیاب ہونے کے باوجود وہاں کی زبان کو کیوں نہ بدل سکا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader