Urdu book · تاریخ کا سبق

اختلاف کا نقصان کہاں تک

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سوال کا جواب ہم کو امویوں اور عباسیوں کی سیاسی لڑائی میں ملتا ہے۔ اموی خلافت کی جگہ عباسی خلافت قائم کرنے کی تحریک جو دوسری صدی ہجری میں شروع ہوئی۔ اس میں ایک طرف وہ لوگ تھے جو سیاسی عزائم کے تحت یہ کام کر رہے تھے۔ اس گروہ کے سردار محمد بن علی بن عبد اللہ بن عباس بن مطلب تھے۔ دوسری طرف مذہبی لوگ تھے جو اصلاحی جذبہ کے تحت اس مہم میں شریک ہو گئے۔ عبد اللہ بن محمد بن حنفیہ بن علی بن ابی طالب کا تعلق اسی دوسرے گروہ سے ہے۔ محمد بن علی کے لڑکے ابراہیم ہیں جو 124 ہجری میں اپنے والد کے انتقال کے بعد اس تحریک کے "امام" مقرر ہوئے۔ ابو مسلم خراسانی جس نے عباسی سلطنت کے قیام میں اہم حصہ ادا کیا ہے، ایک معمولی مزدور تھا جو چچار جامہ سینے کا کام کرتا تھا۔ اس کی زبردست شخصیت اور غیر معمولی صلاحیت کو دیکھ کر امام ابراہیم نے اس کو اپنے کام کے لیے چن لیا اور اس کو اپنا نائب مقرر کر کے خراسان بھیج دیا۔ جب عباسیوں کو غلبہ حاصل ہوا تو انھوں نے چن چن کر بنوامیہ کے افراد کو قتل کرنا شروع کیا تاکہ مستقبل میں ان کے سیاسی اقتدار کو چیلنج کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ اس زمانے میں امام ابراہیم نے ابو مسلم کو تاکید کے ساتھ لکھا کہ "خراسان میں کسی عربی بولنے والے کو زندہ نہ رکھنا“۔ خراسان میں بنوامیہ کے طرف دار وہی عرب قبائل تھے جو خراسان کی فتح کے بعد وہاں جا کر مقیم ہو گئے تھے۔ ان کے علاوہ جو خراسانی باشندے تھے، وہ سب نو مسلم تھے اور بآسانی عباسی اقتدار کو قبول کر سکتے تھے۔ جب کہ عرب قبائل سے یہ اندیشہ تھا کہ ان کی عربیت انھیں بنوامیہ کا حامی بنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page