Urdu book · تاریخ کا سبق

اختلاف کا نقصان کہاں تک

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے نئے ارباب اقتدار کے لیے مسئلہ نہ پیدا کر دے۔ ابو مسلم ایرانی النسل ہونے کی وجہ سے خود بھی اپنے ملک سے عربوں کے استصال کا دل سے خواہش مند تھا۔ امام ابراہیم عباسی کی ہدایت پانے کے بعد وہ پوری طرح اس محبوب مہم کے لیے سرگرم ہو گیا۔ اس نے خراسان میں آباد سارے عرب باشندوں کا ایک طرف سے صفایا کر دیا۔ یہ عرب قبائل جو اس وقت خراسان میں آباد تھے دوسرے پڑوسی ملکوں کی طرح یہاں کی زبان، معاشرت، تمدن، کو عربی بنانے میں مصروف تھے۔ ان کے مذہب کو بدلنے میں انھوں نے کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اب زبان اور تہذیب کو بدلنے کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری تھا، مگر ابو مسلم کی طرف سے ان کے قتل عام کے بعد یہ عمل یکا یک رک گیا۔ ایرانی زبان اور ایرانی تہذیب مرتے مرتے دوبارہ زندہ ہو گئے۔ ایران و خراسان جو مصر و شام و عراق وغیرہ کی مانند آج عرب دنیا کا ایک حصہ ہوتا۔ دوبارہ فارسی ملک بن گیا۔ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ سیاسی حوصلہ مندوں کی سیاست بازیوں کی وجہ سے ضروری قسم کے تعمیری کام ہونے سے رک گئے جس کے نتائج بعد کو اندوہناک صورت میں برآمد ہوئے۔ چند افراد کے وقتی عزائم کی قیمت قوموں اور ملکوں کو صدیوں تک انتہائی بھیانک شکل میں دینی پڑی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page