Urdu book · تاریخ کا سبق

خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا جنگ قادسیہ (14 ھ) میں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں ۔ ایرانی لشکر سے ان کا ایک مشہور پہلوان گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا۔ اسلامی لشکر سے عاصم بن عمرواس کے مقابلہ کے لیے باہر آئے۔ ابھی ایک دو وار ہی ہوئے تھے کہ ایرانی شہ سوار بھاگا۔ عاصم بن عمرونے اس کا پیچھا کیا۔ وہ اپنے لشکر کی صف اول کے قریب تک جا چکا تھا کہ عاصم بن عمرو پہنچ گئے۔ انھوں نے اس کے گھوڑے کی دم کو پکڑ کر اس کو روک لیا۔ سوار کو اس کے اوپر سے اٹھایا اور زبردستی اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا اور اس کے بعد گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر میں آگئے۔ اس قسم کے بہادر لوگ صفین و جمل (36ھ) کی باہمی لڑائیوں میں 90 ہزار کی تعداد میں کٹ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہوتیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا، ایشیا، افریقہ اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا۔ صرف آسٹریلیا اور امریکہ ہی ممکن طور پر اس سے مستثنیٰ رہ جاتے جو وسیع سمندروں کے دوسری طرف قدیم زمانہ میں ناقابل عبور تھے۔ وہ کیا چیز تھی جس نے اس سیلاب کے رُخ کو باہر کے بجائے خود اپنی طرف موڑ دیا۔ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ ایک خاندانی جھگڑا تھا جس نے بڑھ کر قومی جھگڑے کی شکل اختیار کر لی اور بالآخر ساری اسلامی تاریخ پر چھا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page