Urdu book · تاریخ کا سبق

خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

207ء میں سیل عرم سے یمن میں عام تباہی آئی۔ یہاں کے باشندوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کیا۔ ان میں سے قبیلہ خزاعہ مکہ آیا اور حضرت اسمعیل (2074-1937ق م) کی اولاد کو بے دخل کر کے مکہ پر قابض ہو گیا۔ اس کے بعد مقامی باشندے ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ تقریباً ڈھائی سوسال تک قبیلہ خزاعہ مکہ پر قابض رہا۔ قصی بن کلاب پہلا شخص ہے جس نے قریش کی بکھری ہوئی طاقت کو دوبارہ منظم کیا اور 440ء میں لڑ بھڑ کر خزاعہ سے مکہ کی سرداری چھین لی۔ قصی نے خانہ کعبہ کی مرمت کی۔ رفادہ، سقایہ، حجابہ اور قیادت کے عہدے قائم کیے قومی نشان کے طور پر لواء بنایا۔ قومی اسمبلی قائم کی جس کو دار الندوہ کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد قدرتی طور پر قصی کو تمام قبائل قریش کی سرداری حاصل ہو گئی۔ قصی کے بعد قریش کی سرداری ان کی اولاد میں جاری رہی۔ تاہم تیسری نسل میں قصی کے خاندان میں سرداری پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ قصی کا پوتا ہاشم نہایت لائق اور شان دار شخصیت کا آدمی تھا۔ اس نے تجارت کر کے نہ صرف اپنے مال میں اضافہ کیا بلکہ قریش کو بھی بین الاقوامی تاجر کے مقام پر پہنچا دیا۔ اس نے اپنے بھائیوں کی مدد سے شاہ غسان، شاہ حبش، امرائے یمن اور عراق و فارس کی حکومتوں سے تجارتی معاہدے کیے اور خصوصی مراعات حاصل کیں۔ وہ قیصر روم سے یہ پروانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ قریش کا تجارتی مال شام و فلسطین میں بغیر کسی ٹیکس کے داخل ہوتا رہے گا۔ اب قریش کے تجارتی قافلے گرمی کے زمانہ میں شام کی طرف جانے لگے، کیونکہ وہ ٹھنڈ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page