خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
شاداب علاقہ تھا اور جاڑے میں یمن کی طرف سفر کرنے لگے جو کہ گرم علاقہ ہے۔ (قریش2: 106) ہاشم کے حسن تدبر سے قریش کی اقتصادیات نے بہت تیزی سے ترقی کی اور نتیجہً سارے قبیلہ میں ان کی عظمت قائم ہوگئی۔ ہاشم کی اس عزت و ترقی نے خاندان کی دوسری شاخ کے اندر ان کے خلاف منافسَت پیدا کر دی ۔ ہاشم کے بھائی عبدشمس اور ان سے زیادہ ان کے بیٹے امیہ کو ہاشم کی سرداری ناپسند تھی۔ امیہ نے اس کو اپنے چچا سے چھینے کی بہت کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ حتیٰ کہ اسی رنج و غم میں وہ ایک بار مکہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور دس سال تک وہاں پڑے رہے۔ ہاشم کے بعد دوبارہ ان کے بیٹے عبدالمطلب اپنی وجاہت و صلاحیت کی بنا پر قریش کے سردار ہو گئے اور امیہ کی اولاد اس سے محروم رہی۔ اس طرح سرداری قصی کی ہاشمی شاخ میں چلتی رہی اور اس کی اموی شاخ کو حاصل نہ ہوسکی۔ 8ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار اصحاب کے ساتھ فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ نے ایک موقع پر اپنے چچا عباس سے کہا کہ ابوسفیان کو لے کر راستہ میں کسی گھاٹی پر بیٹھ جائیں تا کہ ابوسفیان ، جو بدر کے بعد قریش کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اسلامی فوج کو گزرتے ہوئے دیکھیں۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ جب وہ ابوسفیان کو لے کر ایک تنگ پہاڑی راستہ کی طرف گئے اور وہاں بیٹھنے کے لیے کہا تو ابوسفیان کو اندیشہ ہوا۔ ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا : غَدرًا یَا بَنِی ہَاشِمُ بنی ہاشم ! کیا غداری کا ارادہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader