خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد جب دس ہزار کی تعداد میں مسلح فوج سامنے سے گزری ، تو ابوسفیان پر ہیبت طاری ہوگئی۔ انھوں نے کہا: لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْکُ ابْنِ أَخِیکَ الْغَدَاةَ عَظِيمًا (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 404)۔ یعنی، تمھارے بھتیجے کی حکومت آج بہت عظیم ہو گئی۔ خاندان عبد مناف کی ان دو شاخوں میں یہ چپقلش اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ زمانۂ جاہلیت میں یمن کا ایک شخص کچھ لے کر مکہ آیا ایک شخص نے اس کا سودا خریدنے کے لیے لیا، اور پھر اس کو نہ قیمت دی اور نہ سودا واپس کیا وہ ایک ٹیلہ پر چڑھ کر چیخنے لگا۔ یہ واقعہ عرب آن (honour) کے انتہائی خلاف تھا، چنانچہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لیے اٹھے۔ انھوں نے آپس میں عہد کیا کہ مکہ میں اگر کسی مسافر اور اجنبی کو ستایا گیا تو وہ اس کی پوری حمایت کریں گے۔ بنو ہاشم کے ساتھ اس معاہدہ میں بنواسد، بنوزہرہ، بنو تیم بھی شریک ہو گئے۔ مگر عبد شمس کا خاندان بنو ہاشم کے خلاف اپنی جلن کی وجہ سے معاہدہ میں شریک نہیں ہوا۔ اس طرح کے واقعات جو تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ بنوامید اور بنو ہاشم کے درمیان اسی خاندانی کشمکش کے مظاہر ہیں۔ قصی بن کلاب کے خاندان کی دو شاخوں میں سرداری کی منافسٹ جاری رہی، اکثر چھوٹے چھوٹے جھگڑے بھی ہوتے رہے ۔ یہاں تک کہ ہاشم کے خاندان میں پیغمبر پیدا ہو گئے۔ اب اموی خاندان کی جلن اپنے شباب پر پہنچ گئی۔ پہلے انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader