Urdu book · تاریخ کا سبق

خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

نبوت کی مخالفت کر کے بنی ہاشم کو زیر کرنا چاہا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام مخالفین کو شکست دے کر مکہ پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ظاہر ہو گیا کہ نبوت کی مخالفت کرنا فضول ہے۔ ابوسفیان ، ان کے لڑکے معاویہ اور دوسرے امویوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ احساس لوگوں کے اندر باقی رہا کہ نبوت کے بعد سیاسی اقتدار بنی ہاشم کے ہاتھ میں نہ جانے دیں گے۔ حضرت عمر اپنے بعد علی بن ابی طالب کو خلافت کے لیے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے، مگر غالباً اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کر سکے۔ حضرت عثمان جو خاندان امیہ کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی شہادت کے بعد جب حضرت علی کو خلیفہ بنایا گیا تو بنو امیہ کے لیے یہ بالکل نا قابل برداشت تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلہ نے ان کو فوری طور پر ایک کامیاب سیاسی حربہ دے دیا۔ اس جذباتی نعرہ پر انھوں نے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا۔ اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ خلیفہ چہارم کو منصب خلافت سے ہٹا دیں۔ تاہم معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ نے اپنی گورنری سے فائدہ اٹھا کر مملکت اسلامی کے نصف سے زیادہ حصہ کو سیاسی طور پر کاٹ لیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے نام پر عوام میں ایسی آگ بھڑکائی کہ کچھ لوگوں نے مجنونانہ طور پر حضرت علی کو قتل کر دیا۔ جنگ جمل اور جنگ صفین جس میں 90 ہزار مسلمان کٹ گئے اور دس سال کے لیے اسلام کی توسیع کا سیلاب رک گیا ، وہ در اصل امویوں اور ہاشمیوں کی اسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page