خاندانی جھگڑا تاریخ پر چھا گیا
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
خاندانی لڑائی کا شاشخانہ تھا جس نے پوری ملت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حسن بن علی اس راز کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین بن علی کو بھی مشورہ دیا کہ خلافت کے معاملہ سے بالکل الگ ہو جائیں۔ کیونکہ لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ نبوت اور خلافت دونوں کو علوی خاندان میں جمع ہونا برداشت کر لیں۔ مگر حضرت حسین کی رائے یہ تھی کہ حق کے لیے جان دے دینا باطل کے آگے سر جھکانے سے زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے خلافت کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ یہ واقعہ 61ھ کا ہے۔ اس کے بعد اموی حکومت قائم ہو گئی۔ مگر بنو امیہ کو بنو ہاشم کے خلاف جو بغض و عناد تھا، وہ ان کے نظام ملکی میں ظاہر ہو تا ر ہتا حتی کہ ان کا ذہن یہ بن گیا کہ ہاشم کی اولاد کا خاتمہ کر دو، تاکہ مستقبل میں کوئی خلافت کا دعوے دار باقی نہ رہے۔ ان وجوہ سے وہ فضا پیدا نہ ہوسکی، جس میں بنو ہاشم اپنی سیاسی حق تلفی کو بھول جاتے۔ اندر اندر ان کے دل میں مخالفت کی آگ سلگتی رہی۔ یہاں تک کہ 132ھ کے خاتمہ نے یہ دوسرا انقلاب دیکھا کہ بنو عباس نے ایرانیوں کی مدد سے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا۔ بنوامیہ کا فتنہ انتہائی شدید تھا۔ مگر وہ تمام تر سیاسی تھا۔ اس لیے سیاست کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر بنو ہاشم سے یہ جوابی غلطی ہوئی کہ خلافت کو اپنا حق ثابت کرنے کے لیے انھوں نے خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اس غلطی نے ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader