دو تاریخی تجربے
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
کی بنا پر ملک کی عیسائی رعایا مکمل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا، جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی، جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا، یعنی اشاعت دین کا کام۔ عرب اور اطراف عرب کے اکثر ممالک جتنی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے، اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔ اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے، جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سوسالہ دور حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا۔ اگرچہ انھوں نے وہ غلطی نہیں کی، جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی۔ انھوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا، اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں، مگر مسیحی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا اکھڑی تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آ سکے، اور انھیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا۔ طارق بن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرزمین پر قدم رکھا تھا، اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہو سکتی تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے ”رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا“ (71:26) کی آیت بطور بد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader