Urdu book · تاریخ کا سبق

دو تاریخی تجربے

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا نہیں دہرائی تھی۔ بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کر کے اسلام کا گہوارہ بنا دینا چاہتا ہے۔ مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں، مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغ دین کا کام پس پشت پڑ گیا۔ 132ھ میں جب مرکز خلافت میں تبدیلی ہوئی اور بنو امیہ کی جگہ بنو عباس کی سلطنت قائم ہوئی تو اس ذہن کو مزید تقویت ملی، کیونکہ عباسیوں کو جتنی دلچسپی تمدن اور اور علوم وفنون کی ترقی سے تھی اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن اور علوم وفنون کا مرکز تو بن گیا، مگر وہ اشاعت دین کا مرکز نہ بن سکا۔ چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت آناً فاناً غالب آگئی اور الحمرا کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آسکا۔ چونکہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا اس لیے 904ھ میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف دارو گیر شروع ہوئی تو ان کے لیے وہاں چھپنے کی بھی کوئی جگہ نہیں تھی، عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کر دیں جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے۔ 904ء میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے وہ مسیحی دین قبول کرلے، ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا، کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے مگر ان کو ساحل افریقہ تک پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page