دو تاریخی تجربے
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سر زمین اسپین میں باقی نہ رہا۔ عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یا سمندر میں ڈبو دیا۔ یا آگ میں جلا ڈالا۔ سندھ میں کیا ہوا خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی، جس کے بانی امیر معاویہ (وفات 60ھ) تھے۔ اس سلسلہ حکومت کا پانچواں فرماں روا عبد الملک بن مروان تھا۔ 86ھ میں عبد الملک کا انتقال ہوا، انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنر اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عید الفطر کے اجتماع میں یکم شوال 86ھ کو ولید وسلیمان کی ولی عهدی کے لیے بیعت لی جائے۔ چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عهدی کے لیے بیعت لی گئی۔ یہی موقعہ ہے جب کہ مدینہ کے مشہور محدث سعید بن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر درے لگائے گئے۔ عبد الملک بن مروان (86-23ھ) کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی (سلیمان) کے بجائے اپنے بیٹے (عبد العزیز) کی طرف منتقل کر دے، ولید بن عبد الملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ از خود ولی عهدی سے دست بردار ہو جائے ۔ جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام والیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان بن عبد الملک کی ولی عهدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader