دو تاریخی تجربے
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے اور اس کے بجائے عبدالعزیز بن ولید کی ولی عہدی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے۔ مگر اس منصوبہ کی تکمیل سے پہلے 15 جمادی الثانی 96 ھ (فروری 815ء) میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ولید بن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہو گیا جنھوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔ انھیں میں سے ایک حجاج بن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا وائسرائے موسیٰ بن نصیر ۔ حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسیٰ بن نصیر کا قیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبہ کی حمایت کی تھی۔ اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے، جن سے سب سے پہلے نمٹنا نئے حکمران کے لیے ضروری تھا۔ حجاج ، سلیمان بن عبدالملک کی تخت نشینی سے آٹھ ماہ پہلے شوال 95ھ میں انتقال کر گیا تھا۔ اس لیے سلیمان اب حجاج بن یوسف کو نہیں پا سکتا تھا تاہم حجاج کے رشتے دار اس کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے موجود تھے، جن میں سر فہرست حجاج کے ابن عم اور داماد محمد بن قاسم کا نام تھا جس نے سندھ (موجودہ پاکستان) میں غیر معمولی فاتحانہ کارنامے دکھا کر حجاج کی شہرت میں اضافہ کیا تھا۔ محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت رکھنے والا سپہ سالار تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں ’’اس نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم و اسکندر سے زیادہ بڑا بہادر ثابت کیا تو دوسری طرف نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل و رعایا پرور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader