Urdu book · تاریخ کا سبق

دو تاریخی تجربے

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر ہوا۔" یہ نوجوان فتح مند سردار سندھ و پنجاب میں اتنی تیزی سے گھس رہا تھا اور بستیوں کی بستیاں اس کے اثر سے اس طرح دائرہ اسلام میں داخل ہوتی چلی جا رہی تھیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب سارا علاقہ ایک اسلامی علاقہ بن جائے گا۔ ہندوستان کی مہم پر محمد بن قاسم کو حجاج ہی نے روانہ کیا تھا اس کے لیے حجاج نے کتنا اہتمام کیا تھا اس کا اندازہ چند مثالوں سے ہوگا۔ 1۔ حجاج نے دیگر تمام ساز و سامان کے علاوہ 30 ہزار دینار خصوصی طور پر محمد بن قاسم کے ہمراہ کیے تھے تاکہ ناگہانی ضرورت کے وقت کام آسکیں (تاریخ ہند، میر معصوم، صفحہ 80)۔ کہا جاتا ہے کہ فوج کشی کی اس مہم پر کل 6 کروڑ درہم صرف ہوئے تھے۔ 2۔ فراہمی سامان کا حجاج کو اس قدر خیال تھا کہ اس نے سوچا کہ محمد بن قاسم کو عربوں کی عادت کی بنا پر کھانے میں سرکہ کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ اس نے بہت سی روئی سرکہ میں تر کر کے خشک کرایا اور اس کو محمد بن قاسم کے پاس روانہ کیا اور لکھا کہ جب سرکہ کھانے کا جی چاہے تو اس کو پانی میں بھگو کر نچوڑ لیا کرنا۔ 3۔ پانچ منجنیقیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے خشکی کے راستے سے روانہ نہ ہوسکتی تھیں، ایک بڑے جہاز پر لاد کر ساحل سندھ کی طرف روانہ کیں۔ یہ منجنیقیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک کو چلانے کے پانچ سوں آدمیوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ 4۔ اس پوری مہم کے دوران حجاج اور محمد بن قاسم کے درمیان ڈاک کا سلسلہ جاری رہا۔ حجاج بصرہ میں تھا اور محمد بن قاسم سندھ میں۔ مگر انتظام یہ تھا کہ ہر تیسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page