دو تاریخی تجربے
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
روز ایک خط حجاج لکھتا تھا اور اسی طرح محمد بن قاسم بھی ساری مصروفیات کے باوجود ہر تیسرے روز حجاج کے نام مفصل حالات تحریر کرتا۔ ڈاک کی روانی کے لیے ایسے خاص انتظامات کیے گئے تھے کہ اگرچہ دیبل (سندھ) اور بصرہ میں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا۔ مگر برابر ساتویں روز بصرہ سے دیبل اور دیبل سے بصرہ دونوں کے خطوط پہنچ جاتے تھے۔ محمد بن قاسم نے 95 ھ میں ملتان فتح کیا۔ اب پورا سندھ اس کے قبضہ میں تھا۔ بحر عرب سے لے کر حدود کشمیر تک تمام راجاؤں اور سرداروں نے اسلام کی عظمت کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب اس نے پورے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا منصوبہ بنایا، اور قنوج کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ قنوج پر قبضہ کرنے کے بعد بقیہ علاقوں کی فتوحات کا دروازہ کھل جائے گا۔ مگر 96 ھ میں سلیمان بن عبد الملک تخت نشین ہوا۔ اس کو حجاج کے متعلقین سے حجاج کا بدلہ لینا تھا۔ اس نے ایک طرف حجاج کے بعد یزید بن مہلب کو عراق کا والی مقرر کیا، اور ایک خارجی المذہب صالح بن عبد الرحمن کو خراج وصول کرنے کی خدمت سپرد کی۔ یہ دونوں حجاج کے بدترین دشمن تھے۔ چنانچہ سلیمان کے حکم کے مطابق ان دونوں نے نسل عقیل (خاندان حجاج) کے لوگوں کو طرح طرح سے ماخوذ کر کے قتل کرنا شروع کیا۔ دوسری طرف سلیمان نے محمد بن قاسم کو ولایت سندھ سے معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کا قصور اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ حجاج بن یوسف کا ابن عم اور داماد تھا، اور حجاج کا نامور عزیز ہونے کی بنا پر اس کو ہلاک کر کے سلیمان اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader