دو تاریخی تجربے
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
انتقامی جوش کو ٹھنڈا کر سکتا تھا۔ سلیمان نے محمد بن قاسم کی جگہ یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا حاکم مقرر کیا، نیا حاکم دربار خلافت کا حکم لے کر سندھ پہنچا۔ اس نے محمد بن قاسم کو گرفتار کیا اور مجرموں کی طرح اس کو ٹاٹ کے کپڑے پہنائے، ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈالیں اور معاویہ بن مہلب کی حراست میں عراق روانہ کیا۔ یہ بھی محمد بن قاسم کی سعادت مندی تھی، ورنہ سندھ میں وہ اتنا مقبول تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم سے بغاو ت کرکے خود یزید اور مہلب کو گرفتار کر سکتا تھا۔ فتوح البلدان (صفحہ 464) کے بیان کے مطابق عربی کا مشہور شعر اسی وقت محمد بن قاسم کی زبان پر جاری ہوا تھا: أَضَاعُونِی وَأَیَّ فَتًی أَضَاعُوا لِیَوْمِ کَرِیهَةٍ وَسَدَادِ ثَغْرِ یعنی، لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا۔ وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سرحدوں کو محفوظ رکھے۔ اس کے بعد محمد بن قاسم کو دمشق لے جایا گیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا۔ اس پر دارو غہ جیل کی حیثیت سے صالح بن عبد الرحمن مسلط تھا، جس نے اس کو جیل میں طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مار ڈالا۔ ایک مورخ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”اگر ولید بن عبد الملک کی زندگی کچھ روز اور وفا کرتی۔ یا سلیمان ہی عقل وہوش سے کام لے کر محمد بن قاسم کو چھوڑ دیتا تو شاید ایشیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader