Urdu book · تاریخ کا سبق

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

تاتاری فتنہ اختلابی سیاست کا نتیجہ مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ ساتویں صدی ہجری کے ربع اول میں ہوا۔ اس وقت بغداد کی سلطنت پر ناصر لدین اللہ کا قبضہ تھا اور خراسان میں خوارزم شاہ حکومت کر رہا تھا۔ دونوں میں سیاسی اختلاف پیدا ہو گیا۔ تاتاریوں کے ہاتھ سے مسلم دنیا کی غارت گری انھیں دو مسلم قائدین کے باہمی اختلاف کے نتیجہ میں وقوع میں آئی۔ خراسان کی سلطنت اگرچہ ایک آزاد سلطنت تھی۔ تا ہم وہاں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ خوارزم شاہ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ ناصر لدین اللہ کی مملکت کے ایک سرحدی حصہ (عراق) کو کاٹ کر اپنے علاقہ میں شامل کر لے۔ اس نے اپنے ملک میں ناصر لدین اللہ کا خطبہ موقوف کرا دیا۔ ناصر لدین اللہ اس خبر سے بہت خفا ہوا۔ اس نے اس کے توڑ کے لیے یہ تدبیر کی کہ لڑاکو تاتاری قبائل کو اکسا کر خوارزم شاہ پر حملہ کرا دیا۔ یہ تدبیر نہ صرف خوارزم شاہ بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک عذاب ثابت ہوئی۔ تاتاری جب خوارزم شاہ کو مغلوب کر چکے تو انھوں نے ناصر لدین اللہ کی سلطنت پر حملہ کر دیا اور بالآخر دونوں کو برباد کر ڈالا۔ خوارزم شاہ کو 21 سال حکومت کرنے کا موقع ملا اور ناصر لدین اللہ کو 46 سال۔ اس کے بعد دونوں میں سے ہر ایک اسی قبر میں لیٹ گیا جس میں وہ اپنے بھائی کو لٹانا چاہتا تھا۔ تاریخ کا یہ سبق بھی کتنا عبرت انگیز ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ کوئی اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر شخص جس کو موقع ملتا ہے پہلی فرصت میں اس تاریخ کو دہراتا ہے جو خوارزم شاہ اور ناصر لدین اللہ کے واقعہ کی شکل میں ہمیشہ کے لیے نا کام ہو چکی ہے اور آخرت میں ناکام تر شکل میں سامنے آنے والی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page