Urdu book · تاریخ کا سبق

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

1095ء سے لے کر 1271ء تک یورپ کی مسیحی قوموں نے بلاد اسلامیہ پر آٹھ زبر دست حملے کیے ۔ یہ حملے مغربی سمت ہوتے تھے اور ان کا مقصد ”مقدس مقامات“ کو عیسائی قبضہ میں لینا تھا۔ مگر دو سو سالہ جنگ اس طرح ختم ہوئی کہ بالآخر یروشلم مسلمانوں ہی کے قبضہ میں رہا۔ اسی زمانہ میں 1220ء میں تاتاریوں (مغلوں) نے بلاد اسلامیہ پر حملہ کیا اور اس حد تک کامیاب ہوئے کہ سارے عالم اسلام کو زیر و زبر کر ڈالا۔ وہ چین کے شمالی پہاڑوں سے چنگیز خاں کی زیر قیادت نکلے اور ترکستان، ماوراء النہر، خراسان، آذر بائیجان، اصفہان، افغانستان، فارس، عراق، شام، ایشیائے کوچک، روس، آسٹریا تک تمام ملکوں کو لوٹ مار اور قتل و غارت کا قبرستان بنا دیا۔ مورخ ابن اثیر جو اس زمانہ کا عینی شاہد ہے، اس زمانہ کے واقعات بیان کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے قلم سے یہ الفاظ نکل جاتے ہیں : فَمَنْ اَلَّذِي يَسْهُلُ عَلَيْهِ أَنْ يَكْتُبَ نَعْيَ اْلِإسْلَامِ وَالْمُسْلِمِينَ؟ وَمِنَ اَلَّذِي يَهُوْنُ عَلَيْهِ ذِكْرُ ذَلِكَ؟ فَيَا لَيْتَ أُمِّي لَمْ تَلِدْنِي، وَيَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ حُدُوْثِهَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا... فَلَوْ قَالَ قَائِلٌ : إِنَّ الْعَالَمَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ سبحانه وتعالیٰ آدم، اِلَى الْآنِ، (ای الی عهد ابن الاثیر) لَمْ يُبْتَلَوْا بِمِثْلِهَا، لَكَانَ صَادِقًا (الكامل فى التاريخ لابن الاثير، جلد 10، صفحه 333)۔ یعنی ، کون ہے جس کے لیے آسان ہو کہ اسلام اور مسلمانوں کی ہلاکت کی داستان لکھے۔ اور کون ہے جس کے لیے اس کا ذکر آسان ہو۔ کاش میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا اور کاش میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا اور ختم ہو گیا ہوتا۔ اگر کوئی کہے کہ جب آدم پیدا کیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page