تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
گئے، اس وقت سے لے کر اب تک ایسا حادثہ انسانیت پر نہیں آیا تو یقیناً وہ سچا ہوگا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی (1193-1137ء) کی وفات کے 20 سال سے بھی کم عرصہ میں اتنا بڑا حادثہ عالم اسلام پر کیوں پیش آیا۔ کچھ لوگ اس سلسلہ میں تاتاریوں کی سفاکی کا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ حکمراں قومیں ہمیشہ سفاک دشمنوں کے نرغہ میں رہتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی "تاتار" مسلمانوں کے لیے ہمیشہ موجود رہا ہے ۔ پھر اس کو تیرہویں صدی عیسوی کے آغاز ہی میں یہ شان دار کامیابی کیسے حاصل ہوئی ۔ حالاں کہ یہ وہ وقت تھا جب کہ اسلامی سلطنت کی وسعت، اس کی مسلسل فتوحات، اس کی حربی اور تمدنی ترقیاں اور اس کے مقابلہ میں یورپی قوموں کی عبرتناک پسپائی نے اتنی دھاک بٹھادی تھی کہ کوئی سیاسی حوصلہ مند سلطنت اسلامی کی طرف رخ کرنے کی جرات مشکل ہی سے کر سکتا تھا۔ تاتاری حملہ کا واقعہ دیلمی خلیفہ ناصر لدین اللہ (622-553ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ مشہور مورخ ابن اثیر اس خلیفہ کا ہم عصر تھا۔ وہ تاتاریوں کی خوں ریزی بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے: وَكَانُوا اِكَّلَّمَا مَرُّوا بِمَدِينَةٍ أَوْ قَرْيَةٍ وَضَعُوا السَّيْفَ عَلَى أَهْلِهَا دُوْنَ تَفْرِقَةٍ بَيْنَ كَبِيرٍ أَوْ صَغِيرٍ، أَوْ جَلِيلٍ أَوْ امْرَةٍ، وَعَمَّتْ بِلَادَ الْمَشْرِقِ جَرَائِمُهُمْ وَفَظَائِعُهُمْ۔ یعنی، جب وہ کسی شہر یا گاؤں سے گزرتے تو اس کے باشندوں پر اپنی تیغ بے نیام کر دیتے اور بڑے چھوٹے، عورت، مرد سب کو قتل کر ڈالتے۔ مشرق کے تمام علاقے ان کے جرائم سے بھر گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader