تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
ابن اثیر نے 617ھ (1220ء) کے حوادث کے ذیل میں لکھا ہے : إِنَّ سَبَبَ خُرُوجِ التَّتَارِ إِلَى الدِّيَارِ الإِسْلامِيَّةِ هُوَ تَصَرُّفُ خُوَارِزْمَ شَاهِ السَّيِّئِ بِقَتْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّتَارِ قَادِمِينَ إِلَى بِلادِهِ لِلتَّجَارَةِ وَنَهْبِ أَمْوَالِهِم (ابن الأثیر) ۔ یعنی، بلاد اسلامیہ پر تاتاریوں کی یورش کی وجہ خوارزم شاہ کی یہ بیہودہ حرکت تھی کہ اس نے تاتاریوں کی جماعت کو قتل کر دیا اور ان کے اموال کو چھین لیا جو کہ اس کے ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے۔ یہی قصہ مختلف شکلوں میں مشہور ہوا ہے جس میں تاتاری فتنے کی ذمہ داری خوارزم شاہ (وفات 617ء) پر ڈالی گئی ہے۔ مگر تاریخ کے گہرے مطالعہ سے یہ بات صحیح نظر نہیں آتی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود مورخ ابن اثیر نے دوسرے موقع پر ایک اور بات لھی ہے : وَقِيلَ فِي سَبَبِ خُرُوجِهِمْ إِلَى بِلادِ الإِسْلامِ غَيْرُ ذَلِكَ مِمَّا لا يُذْكَرُ فِي بُطُونِ الدَّفَاتِرِ : فَكَانَ مَا كَانَ مِمَّا لَسْتُ أَذْكُرُهُ فَظُنَّ خَيْرًا وَلا تَسْأَلْ عَنِ السَّبَبِ (الکامل ، جلد 10، صفحہ 331)۔ یعنی، تاتاریوں کی یورش کا اس کے سوا دوسرا سبب بھی بیان کیا گیا ہے جس کو لکھا نہیں جاسکتا، جو ہوا وہ ہوا۔ اب میں اس کو بیان نہیں کروں گا۔ تم اچھا گمان کر لو اور سبب مت پوچھو۔ ابن اثیر کے اس بیان سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاسی اسباب سے اصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader