Urdu book · تاریخ کا سبق

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت کو چھپا رہا ہے، مگر یہ تاریخ کی خوش قسمتی تھی کہ ابن اثیر کی زندگی ہی میں وہ سیاسی رکاوٹ ختم ہوگئی اور بعد کے ’’دفتر‘‘ میں وہ اس کو درج کرنے کے لیے زندہ رہا۔ تاتاری حملہ 617ھ میں ہوا اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کا انتقال 622ھ میں۔ ابن اثیر نے مذکورہ بالا جملے 617ھ کے حوادث کے ذیل میں لکھے تھے۔ ناصر لدین اللہ کے انتقال کے بعد جب وہ 622ھ کے حوادث کے ذیل میں خلیفہ کے حالات لکھنے بیٹھا تو اس نے اپنی تاریخی کتاب میں حسب ذیل الفاظ ثبت کیے : وَكَانَ سَبَبَ مَا يَنْسُبُهُ الْعَجَمُ إِلَيْهِ صَحِيحًا مِنْ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي أَطْمَعَ التَّتَرَ فِي الْبِلَادِ، وَرَاسَلَهُمْ فِي ذَلِكَ، فَهُوَ الطَّامَّةُ الْكُبْرَى الَّتِي يَصْغُرُ عِنْدَهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَظِيمٍ (الكامل، جلد 10، صفحہ 401-400)، یعنی، اگر وہ سب صحیح ہو جو عجمی لوگ ناصر لدین اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی وہی تھا جس نے تاتاریوں کو حملہ پر اکسایا اور اس سلسلہ میں ان کے پاس پیغام بھیجا تو وہ ایسی قیامت تھی جس کے آگے ہر بڑا گناہ ہیچ ہے۔ استاذ حافظ احمد حمدی (مؤلف کتاب الدولة الخوارزمية والمغول) نے اس موقع پر حسب ذیل تعلیق کی ہے: وَالظَّاهِرُ أَنَّ ابْنَ الْأَثِيرِ، وَهُوَ مِنَ الْمُعَاصِرِينَ لِلْغَزْوِ الْمَغُولِي وَالْخَلِيفَةَ النَّاصِرَ لِدِينِ اللَّهِ، لَمْ يَجِدْ سَبِيلًا إِلَى الْمُجَاهَرَةِ بِاسْتِدْعَاءِ الْخَلِيفَةِ لِلْمَغُولِ، وَلَمْ يُنْقَلْ ذَلِكَ بِصَرَاحَةٍ وَوُضُوحٍ إِلَّا عِنْدَمَا تُوُفِّيَ الْخَلِيفَةُ، فَذَكَرَ هَذِهِ الْحَقِيقَةَ فِي جَلَاءٍ وَجُرْأَةٍ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page