Urdu book · تاریخ کا سبق

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

(صفحہ 50)، یعنی، اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ ابن اثیر، جو کہ مغلوں کے حملہ اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کے ہم زمانہ ہیں۔ خلیفہ کی وفات سے پہلے صراحۃً اس کو کہنے کی جرات نہ کر سکے تھے کہ مغلوں کو بلانے والا خود خلیفہ ناصر لدین اللہ تھا۔ اس حقیقت کو انھوں نے خلیفہ کی وفات کے بعد جرات اور وضاحت سے بیان کیا۔ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ابن اثیر کے قول کو نقل کیا ہے اور اس پر کوئی جرح و تعدیل نہیں کی (جلد 13، صفحہ 107)۔ ابو الفداء نے اپنی تاریخ میں اس کی تائید کی ہے اور لکھا ہے: وَقَدْ نُسِبَ إِلَى الإِمَامِ النَّاصِرِ أَنَّهُ هُوَ الَّذِي كَاتَبَ التَّتَارَ وَطَمْعَهُمْ فِي البِلَادِ، لِيَشْغَلَ خُوَارِزْمْ شَاه عَنْهُ قَصْدَ العِرَاقِ (المختصر في اخبار البشر، جلد 3 صفحہ 136)، یعنی، ناصر لدین اللہ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی کہ وہی ہے جس نے تاتاریوں کو لکھا اور ان کو حملہ کرنے کے لیے اکسایا تا کہ خوارزم شاہ اس کے مقابلہ میں مشغول ہو جائے اور عراق کا قصد نہ کرے۔ اسی طرح مقریزی نے اپنی کتاب السلوك لمعرفة دول الملوك (جلد 1، صفحہ 341) میں اس کی تائید کی ہے وہ خلیفہ ناصر لدین اللہ کی وفات کے تذکرے میں لکھتا ہے: وَفِي خِلَافَتِهِ خَرَّبَ التَّتَارُ بِلَادَ الْمَشْرِقِ حَتَّى وَصَلُوا إِلَى هَمَذَانَ، وَكَانَ هُوَ السَّبَبَ فِي ذَلِكَ، فَإِنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِمْ بِالْعُبُورِ إِلَى الْبِلَادِ،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page