تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
خَوْفًا مِنَ السُّلْطَانِ عَلَاءِ الدِّينِ مُحَمَّدِ بْنِ خُوَارِزْمِ شَاهِ، لَمَّا هَمَّ بالاستِيلاءِ عَلَى بَغْدَادَ، وَأَنْ يَجْعَلَهَا دَارَ مَمْلَكَتِهِ كَمَا كَانَتِ السَّلْجُوقِيَّةُ - یعنی، ناصر لدین اللہ کی خلافت کے زمانہ میں تاتاریوں نے بلاد اسلامیہ کے مشرقی علاقہ میں غارت گری کی، یہاں تک کہ ہمدان تک پہنچ گئے، اس کا سبب خود یہی خلیفہ تھا، اس نے تاتاریوں کو لکھا کہ وہ بلاد اسلامیہ میں گھس آئیں۔ یہ اس نے سلطان علاء الدین محمد بن خوارزم شاہ کے خوف سے کیا تھا، کیونکہ وہ بغداد پر قبضہ کا ارادہ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کو اپنا دار الحکومت بنائے۔ خلیفہ ناصر لدین اللہ نے تقریباً ستر برس کی عمر پائی۔ وہ 575ھ میں تخت پر بیٹھا اور 46 سال تک حکمراں رہا آخر عمر میں اس کو شدید قسم کی پیچش ہو گئی۔ اس کی بصارت جاتی رہی اور وہ اندھا ہو گیا اور اسی حال میں رمضان (622ھ 1225ء) کی آخری رات کو مر گیا ۔ تاتاری اپنے اس خروج میں پہلے خوارزم شاہ پر حملہ آور ہوئے اور خراسان اور بلاد جبل کو اس کے قبضہ سے چھین لیا۔ اس کے بعد چنگیز خاں (1227 1162ء) کی قیادت میں ارانیہ اور شروان پر قابض ہو گئے۔ خوارزم شاہ تاتاریوں سے شکست کھا کر طبرستان کے کسی مقام میں چلا گیا اور 21 سالہ حکومت کے بعد 617ھ میں فوت ہو گیا۔ تاتاریوں کا ایک گروہ غزنی، سجستان، کرمان وغیرہ کی طرف نکل گیا - خوارزم شاہ کو شکست دینے کے بعد تاتاریوں نے اس کے بیٹے جلال الدّین بن خوارزم شاہ کو غزنی میں شکست دی چنگیز خاں اس کا تعاقب کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader