تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے دریائے سندھ تک چلا گیا۔ جلال الدین دریائے سندھ کو عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہوگیا۔ چند روز ہندوستان میں رہ کر 622 میں خوزستان اور عراق کی طرف چلا گیا اور آذر بائیجان اور آرمینیا پر قابض ہوگیا۔ یہاں تک کہ مظفر کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد تاتاریوں کا ٹڈی دل ناصر لدین اللہ کی مملکت کی طرف بڑھا اور سارے عالم اسلام کو قتل و غارت گری کا قبرستان بنا ڈالا۔ ناصر لدین اللہ نے خوارزم شاہ کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیر کی، وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے زمانہ میں عربوں نے ترک خلافت کا ”جوا“ اپنے سر سے اتار پھینکنے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش نے پاکستانی غلبہ کے خلاف اپنی لڑائی میں ایک خارجی ملک کو بہترین مددگار پایا (1970)۔ افغانستان میں سردار داؤد خاں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہاں کے لیڈر اشتراکی روس سے مل گئے (1978) وغیرہ۔ اس طرح آج بھی اکثر مسلم ملک کسی نہ کسی ”تاتاری فتنہ“ کی شکار گاہ بنے ہوئے ہیں۔ اور ان نئے تاتاریوں کو جو لوگ مسلم ممالک میں داخلہ کا راستہ دے رہے ہیں وہ دوبارہ خود مسلمان ہیں جو اپنے حریف مسلمان کو شکست دینے کے لیے اغیار کو ان کے اوپر چڑھ لاتے ہیں۔ اس سیاست کا نتیجہ دوبارہ اسی بھیانک صورت میں نکل رہا ہے جو بارھویں صدی عیسوی میں ناصر لدین اللہ کے زمانہ میں نکلا تھا۔ اس قسم کی سیاست میں نہ صرف ملت کے بہترین امکانات برباد ہوتے ہیں، بلکہ وہ دونوں فریقوں کے لیے یکساں مہلک ہے۔ جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کی ضد میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader