Urdu book · تاریخ کا سبق

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

اغیار کو اپنی صفوں میں داخل کرتے ہیں وہ جب آتے ہیں تو صرف ان کے مفروضہ حریف کو ختم نہیں کرتے۔ بلکہ بیرونی دراندازی کی یہ سیاست بالآخر خودان کے لیے بھی مہلک ثابت ہوتی ہے۔ وہ خود بھی بہت جلد اسی تخریبی سیاست کا شکار بن جاتے ہیں، جس کا شکار وہ اپنے حریف مسلمان کو بنانا چاہتے تھے۔ بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمن کا قتل (1975)، اور افغانستان کے کرنل عبدالقادر (1978) کی تطہیر (purge) اس کی تازہ مثالیں ہیں۔ متحدہ محاذ کی سیاست یہ دوسری صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے۔ لوگ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آچکے تھے اور ہر صبح شام ایک نئی حکومت کے منتظر تھے، جس کی ایک روایت کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ دوسری طرف ہاشمی (یا عباسی) خاندان کے کچھ لوگ بنی امیہ کے کھنڈر پر اپنی شاہی عمارت اٹھانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اس صورت حال نے ایک طرف عوام اور دوسری طرف عباسی حوصلہ مندوں کے لیے ایک مشترک نقطہ فراہم کر دیا۔ بنی امیہ کا خاتمہ۔ اگرچہ مظلوم عوام کے لیے اس کا محرک کچھ اور تھا اور عباسی حوصلہ مندوں کے لیے کچھ اور۔ اس مشترکہ جد و جہد کے نتیجہ میں 132 ھ میں خلافت بنو امیہ کا خاتمہ ہو گیا اور سفاح تخت نشین ہوا، جو عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا۔ 136 ھ میں اس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ بنو امیہ کے آخری زمانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page