متحدہ محاذ کی سیاست
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
میں جو لوگ ان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے ان میں محمد بن عبداللہ (نفس زکیہ) اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ لوگ امام حسن بن علیؓ کی اولاد سے تھے۔ بنو عباس جو نسلی وجوہ سے اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے اور اموی سلطنت کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ جب انھیں مذکورہ بالا دونوں بھائیوں کی خفیہ تحریک کا علم ہوا تو وہ ان سے مل گئے۔ حتی کہ خود المنصور (جو بعد کو خلیفہ ہوا) نے نفس زکیہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اموی سلطنت ختم ہوئی اور عباسی سلطنت اس کی جگہ قائم ہوگئی۔ مگر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مظالم اور زیادہ بڑھ گئے، حتیٰ کہ شاعر کو کہنا پڑا: فَمَهْلًا يَا بَنِي العَبَّاسِ مَهْلًا لَقَدْ كُوِيتْ بِغَدْرِكُمُ الصُّدُورُ اے بنی عباس اپنا ظلم چھوڑ دو تمھاری غداری سے سینے داغدار ہو چکے ہیں۔ چنانچہ نفس زکیہ اور ان کے بھائی دونوں روپوش ہو گئے، اور جو "انقلابی تحریک" پہلے وہ بنی امیہ کے خلاف چلا رہے تھے، اس کو اب بنو عباس کے خلاف چلانے لگے۔ یہاں تک کہ موقع پا کر انھوں نے خروج (سلطنت سے بغاوات) کا اعلان کر دیا اور مدینہ میں اپنی آزاد حکومت قائم کرلی۔ اس کے بعد ان کا جو انجام ہوا وہ یہ کہ نفس زکیہ 145ھ میں مارے گئے اور ان کا سر منصور کے دربار میں پیش کیا گیا۔ وہی منصور جس نے ان کے ہاتھ پر نوجوانی کی عمر میں بیعت کی تھی۔ عباسی سلطنت کے قیام سے پہلے نفس زکیہ کی تحریک اور عباسی تحریک دونوں کا مشترک دشمن ایک تھا۔ یعنی بنوامیہ۔ مگر جب عباسی تحریک نے بنوامیہ کی تحریک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader