متحدہ محاذ کی سیاست
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی، اور عباسی سلطنت قائم ہو گئی تو اب صورت حال بدل گئی۔ اب عباسی سلطنت کے لیے نفس زکیہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ کیوں کہ وہ موجودہ عباسی سلطنت سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ وہی المنصور جو ”انقلاب“ سے پہلے نفس زکیہ کا حلیف تھا، اب ان کا دشمن بن گیا۔ اس نے ان کی تحریک کو ختم کرنے میں اتنی سرگرمی دکھائی کہ دو مہینے تک لباس نہیں بدلا اور بستر پر نہیں سویا۔ اس کو اس وقت تک چین نہیں آیا جب تک اس نے اس تحریک کو ختم نہ کرلیا۔ تاریخ کا یہ تجربہ ایک ہزار سال پہلے پیش آچکا تھا جو بتا رہا تھا کہ مختلف محرکات رکھنے والے لوگ جب کسی مقصد کے لیے متحدہ محاذ بناتے ہیں تو اس کا فائدہ ہمیشہ اس فریق کو حاصل ہوتا ہے جو زیادہ زور آور اور ہوشیار ہو۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس تجربہ سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور لوگ بار بار اسی ناکام تجربہ کو دہراتے رہے۔ جمال الدین افغانی (1897-1838ء) نے مصر میں احیائے ملت کا علم بلند کیا۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے قوم پرستوں کی ایک انجمن ”الحزب الوطنی“ کے نام سے قائم کی جس کے ممبروں کی تعداد کافی وسیع تھی۔ اس میں شیخ محمد عبدہ، سعد زغلول پاشا، عبداللہ ندیم بے اور احسان بے جیسے ممتاز لوگ شامل تھے۔ مصر میں جمال الدین افغانی کا اثر ورسوخ اتنا بڑھ رہا کہ وہاں کی بااثر جماعت ”جمعیت مانوسیہ“ نے ان کو اپنا صدر نامزد کیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا جب جمال الدین افغانی کی انجمن کا ایک خفیہ رکن توفیق پاشا مصر کے تخت حکومت پر متمکن ہوگیا۔ اگرچہ اس کامیابی میں فرانس اور برطانیہ کا زیادہ ہاتھ تھا۔ اس واقعہ کے بعد جمال الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader