Urdu book · تاریخ کا سبق

متحدہ محاذ کی سیاست

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

افغانی اور ان کے ”قوم پرست“ ساتھی بہت خوش ہوئے ۔ انھیں نظر آیا کہ ان کی دیرینہ آرزوئیں اور تمنائیں پوری ہو رہی ہیں ۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ یہ محض سراب تھا ۔ توفیق پاشا نے تخت پر بیٹھتے ہی جمال الدین افغانی اور ان کے مخصوص خادم ابوتراب کو مصر سے جلاوطنی کا حکم دے دیا۔ توفیق پاشا، سید جمال الدین افغانی کی خفیہ مجلسوں میں شریک ہو چکا تھا، اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ لوگ امپیریلزم کے شدید مخالف ہیں۔ چوں کہ توفیق پاشا کو انھیں امپیریلست طاقتوں (فرانس اور برطانیہ) کی حمایت سے کام کرنا تھا، اس لیے اس نے مصر میں ان کی موجودگی کو حکومت کے لیے ایک خطرہ سمجھا۔ اس نے فوج اور پولس کی کڑی نگرانی میں جمال الدین افغانی اور ان کے خادم کو سوئز بھیج دیا اور وہاں انھیں بحر کشتی پر سوار کر کے روانہ کر دیا گیا۔ عجیب بات ہے کہ صرف نصف صدی بعد اسی حصہ میں ٹھیک اسی غلطی کو دوبارہ اس سے زیادہ بری شکل میں دہرایا گیا ۔ 1952ء میں جب مصر میں شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹ گیا اور فوجی افسروں نے ملک میں حکومت قائم کر لی تو ایک صاحب مجھ سے ملے ۔ ”مولانا ...... مصر جانے کا پروگرام بنا رہا ہے ہیں۔“ انھوں نے بہت راز دارانہ انداز میں کہا۔ ”کیوں خیریت تو ہے؟“ میں نے پوچھا۔ ”یہ جو مصر میں انقلاب ہوا ہے، بظاہر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ فوجی انقلاب ہے، مگر حقیقتاً اخوانی اس انقلاب کے ہیرو ہیں۔ اب مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ہوگی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page