خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہوا
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اوپر اقلیت کی حکومت تھی۔ بائبل کے بیان کے مطابق یعقوب (اسرائیل) کا گھرانا جو ملک مصر منتقل ہوا، ان کی تعداد حضرت یوسف کو ملا کر 68 تھی۔ توالد و تناسل نیز تبلیغ کے ذریعے دورِ قدیم کے ان ”مسلمانوں“ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پانچ سو برس بعد جب حضرت موسیٰ نے مردم شماری کرائی تو صرف ان کے مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اگر چہ اس زمانے کی مصری آبادی کے قلمی اعداد و شمار معلوم نہیں ہیں۔ تا ہم تخمینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصر کی اس زمانے کی آبادی میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً 10 فی صد ہوگی۔ حضرت یوسف نے 110 سال کی عمر پائی۔ آپ کے تین چار سو سال بعد مصر میں عرب حکمرانوں کے خلاف ردِ عمل ہوا۔ لمبے خون خرابے کے بعد بالآخر قبطی غالب آئے۔ بیرونی حکمرانوں کو تخت سے بے دخل کر دیا گیا اور مصر پر ایک قبطی خاندان کی حکومت قائم ہو گئی جس کے حکمرانوں نے ”فرعون“ کا لقب اختیار کیا۔ قبطی حکومت کے قیام کے بعد اگر چہ ڈھائی لاکھ عربوں کو مصر سے نکال دیا گیا تھا۔ تا ہم بنی اسرائیل اب بھی وہاں رکھے گئے تا کہ نئے حکمرانوں کے لیے بیگار کا کام دے سکیں۔ بائبل کے الفاظ میں: ”مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انھوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی۔ اور ان کی ساری خدمت جو وہ ان سے کراتے تھے مشقت کی تھیں۔“ (خروج، 14: 13-1)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader