Urdu book · تاریخ کا سبق

متحدہ محاذ کی سیاست

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا اس لیے جانا چاہتے ہیں کہ اس نازک اور تاریخی موقع پر اخوانی لیڈروں کو نصیحت کریں اور اسلامی نظام کی تعمیر کے لیے انھیں مفید مشورے دیں“۔ یہ واقعہ ہے کہ مصر میں جو فوجی افسر انقلاب لائے تھے ان میں ایسے بھی تھے جن کے اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ وہ اخوانی تحریک کی تائید کرتے تھے۔ حتیٰ کہ خود جمال عبد الناصر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اخوانیوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے تھے۔ موجودہ صدر سادات کا بیان ہے کہ فوجی افسروں کی ”انقلابی کونسل“ نے ان کو مامور کیا تھا کہ وہ اخوانیوں سے رابطہ قائم کریں اور انقلابی جدوجہد کے سلسلہ میں ان کی تائید حاصل کریں ۔ چنانچہ جس رات کو شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹا گیا ہے۔ اخوانی رضا کار قاہرہ کی سڑکوں پر پہرہ دینے میں مشغول تھے ۔ وہ ان خفیہ باتوں کے بھی راز دار تھے جن میں شاہ فاروق کو تخت سے معزول کرنے کی اسکیم بنائی گئی تھی۔ ”جب اخوان المسلمین اور فوجی افسروں کے اشتراک سے مصر میں انقلاب آیا تھا تو کیوں ایسا ہوا کہ فوجی افسروں نے برسر اقتدار آنے کے بعد اخوانیوں کو ختم کر دیا ۔“ یہ سوال اکثر لوگوں کو پریشان کرتا ہے ۔ جواب بالکل سادہ ہے ۔ یہ ”اشتراک“ اسی قسم کی ایک غلطی تھی جس کا نمونہ اوپر کی مثالوں میں آپ دیکھ چکے ہیں ۔ شاہ فاروق کی فوج کے کچھ جو نئیر افسر فاروق کی قبر کے اوپر اپنی حکمرانی کا تخت بچھانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ مگر انھیں شبہ تھا کہ وہ تنہا اپنے اس خواب کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔ دوسری طرف اخوان المسلمین مصر میں اسلامی طرز کی حکومت قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page