متحدہ محاذ کی سیاست
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کے خواہشمند تھے۔ مگر ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اپنی اس تمنا کو کس طرح واقعہ بنائیں ۔ دونوں کی راہ کی رکاوٹ بظاہر صرف ایک چیز تھی، شاہ فاروق کی حکومت ۔ اس صورت حال نے دونوں گروہوں کے لیے ایک مشترک نقطہ اتحاد فراہم کر دیا۔ باہم ملاقاتیں اور دوستیاں شروع ہو گئیں۔ خفیہ مجالس میں شاہ کے خلاف اسکیمیں بننے لگیں۔ دونوں خوش ہو گئے کہ مقصد کے حصول کا قریبی موقع ہاتھ آ گیا ہے۔ مگر جب حکومت بدلی تو فطری طور پر وہ ان لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی، جو زیادہ ہوشیار اور عملی طور پر حکومت سے قریب تر تھے، اور اتفاق سے یہ وہی لوگ تھے جن کو اسلامی یگانگت سے زیادہ ذاتی حوصلوں کی تکمیل کے شوق نے فریق ثانی سے قریب کیا تھا۔ انقلاب کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ ان حوصلوں کی تکمیل میں پہلے جہاں شاہ فاروق کی شخصیت حائل تھی، وہاں اب یہ "قدیم دوست" آ کر کھڑے ہو گئے ہیں یا کم از کم کھڑے ہو سکتے ہیں۔ حل بہت آسان تھا۔ پہلے کے فوجی افسراب ملک کے حکمراں بن چکے تھے۔ انھوں نے اپنے قدیم دوستوں کو اس سے بھی زیادہ بے دردی کے ساتھ اپنی راہ سے ہٹا دیا جس کا مظاہرہ انھوں نے شاہ فاروق کی معزولی کے وقت کیا تھا۔ اسی اتحادی سیاست کو مزید بدتر شکل میں پاکستان میں دہرایا گیا ہے۔ 1951 میں پاکستان میں فوجی انقلاب ہوا اور صدر ایوب کی ڈکٹیٹر شپ ملک میں قائم ہو گئی۔ یہ صورت حال ملک کے بہت سے لوگوں کے لیے پریشان کن تھی۔ ان میں ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader