متحدہ محاذ کی سیاست
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
طبقہ ”اسلام پسند“ حضرات کا تھا۔ یہ لوگ پاکستان میں اسلامی نظام لانے کے علم بردار تھے اور صدر ایوب اور ان کی ”بنیادی جمہوریت“ ان کے نزدیک اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ دوسرا گروہ ”سیکولر اور سوشلسٹ“ ذہن رکھنے والوں کا تھا۔ ان کو بھی یہی محسوس ہو رہا تھا کہ ”بنیادی جمہوریت“ کے ہوتے ہوئے وہ ملک کے اقتدار پر قبضہ نہ کر سکیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس کو ختم کیا جائے۔ دونوں گروہ آخری منزل کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے۔ تاہم دونوں محسوس کرتے تھے کہ ”صدر ایوب“ کی ذات دونوں کے لیے یکساں رکاوٹ ہے۔ اشتراک کی اس منفی بنیاد نے دونوں کو ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم پر یک جا کر دیا۔ اور پھر دونوں نے مل کر ملک میں وہ طوفان مچایا کہ خود ملک دو ٹکڑے ہو کر رہ گیا۔ یہ متحدہ محاذ جو بڑے بڑے وعدوں کے ساتھ بنایا گیا تھا، جب اپنے آخری انجام کو پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کا سارا فائدہ سیکولرزم اور سوشلزم کے علم برداروں کے حصہ میں آیا ہے، اور اسلام پسند گروہ کو اس کے سوا کچھ نہیں ملا کہ ساری طاقت خرچ کر کے سیاست کے صحرا میں ”مُلُوْمَا مَدْحُوْرًا“ بنے رہیں۔ اب اسی نادان سیاست کو ہندوستان کے کچھ مسلم قائدین نے اس ملک میں درآمد کیا ہے۔ وہ معاہداتی سیاست کے نعرے لگا رہے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر وہ ایک سیاسی پارٹی سے مل کر دوسری پارٹی کو شکست دیتے ہیں۔ مگر قوم کے بے شمار و مسائل کو خرچ کرنے کے بعد ان کے حصہ میں جو آخری چیز آئی ہے وہ صرف یہ کہ ”الیکشن“ کے بعد جب لوگ اسمبلیوں پر قبضہ کرلیں، اور وزارتیں بنالیں تو ہمارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader