Urdu book · تاریخ کا سبق

متحدہ محاذ کی سیاست

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

لیڈر اسٹیج پر نمودار ہو کر یا پریس کانفرنس کر کے یہ انکشاف کریں کہ جیتنے والوں نے ہم سے فلاں فلاں وعدے کیے تھے، جو پورے نہیں کیے گئے۔ 1966 کے الیکشن میں معاہداتی سیاست کے رہنماؤں نے دوسری پارٹیوں کے ساتھ مل کر ریاستوں میں حکمران کانگریس کو شکست دی۔ 1977 کے الیکشن میں اندرا گاندھی کی شکست کے بعد ایک مسلم رہنما نے کہا ”آج ہم نے ظلم کا بیڑا غرق کر دیا۔“ مگر ان فتوحات کے باوجود اصل صورت حال آج بھی ویسی ہی ہے جیسی کہ وہ پہلے تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ہی غلطی کو ہم کب تک دہراتے رہیں گے ۔ اصل سیاست یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو طاقتور اور مستحکم بنایا جائے۔ سیاسی اشتراک یا متحدہ محاذ ہمیشہ اس فریق کے لیے مفید ہوتا ہے، جو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ فیصلہ کن پوزیشن کا حامل ہو۔ اندرونی کمزوری اور انتشار کو درست کرنے سے پہلے متحدہ محاذ کی طرف دوڑ نا نادانی کے سوا اور کچھ نہیں ۔ (اگست 1972) اس سلسلہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ جہاں تک جزئی امور میں تعاون کا تعلق ہے ۔ اس قسم کا تعاون ہر ایک سے لیا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ کافر و مشرک سے بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نازک سفر میں عبد اللہ بن اریقط کو رہنما بنایا جو کہ مشرک تھا۔ صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ غزوۂ حنین میں شریک ہوئے۔ حالاں کہ اس وقت تک وہ مشرک تھے۔ امام زہری نے روایت کیا ہے: اِنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَانَ بِنَاسِ مِنَ الْيَهُودِ فِي حَرْبِهِ فَأَنْسَهُمْ لَهُمْ (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 2790) ۔ یعنی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page