سیاست کے ساتھ دینی خدمت
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاست کے ساتھ دینی خدمت سیاست کے ساتھ دینی خدمت کا کام نہیں کیا جاسکتا۔ شمالی نائجیریا کی 65 ملین آبادی میں آدھے سے زیادہ مسلمان ہیں۔ دو سو برس پہلے کی بات ہے۔ شمالی نائجیریا کے سلطان بیوانے ریاست کے علما کو اپنے دربار میں بلایا اور ان کو تحفے دیے۔ آنے والوں میں ایک بزرگ نے تحفہ قبول نہیں کیا۔ یہ عثمان دان فودیو (1817-1754ء) تھے۔ انھوں نے کہا: میں آپ کا تحفہ اس وقت لوں گا جب کہ آپ مجھ کو تبلیغِ اسلام کا پروانہ عطا فرمائیں۔ سلطان نے فوراً ان کے مطالبہ کو مان لیا۔ عثمان دان فودیو نے اس کے بعد تبلیغ و دعوت کا کام شروع کیا۔ ان کی کوششوں سے نائجیریا کے بہت سے باشندے مسلمان ہو گئے۔ تاہم یہ سلسلہ دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ عثمان دان فودیو نے اس کے بعد سلطان کے سامنے سیاسی مطالبات رکھنے شروع کیے۔ ”تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرو، ٹیکس کی شرح گھٹاؤ، وغیرہ۔“ اس قسم کے مطالبات نے حکمرانوں کو خفا کر دیا۔ سلطان بیوا کسی طرح ان کو برداشت کرتا رہا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا لڑکا سلطان نفاتا تخت پر بیٹھا۔ اس نے نہ صرف عثمان دان فودیو کے سیاسی مطالبات کورد کیا، بلکہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پابندی لگا دی۔ اب عثمان دان فودیو اور ان کے ساتھی سلطان کے سیاسی مخالف بن کر کھڑے ہو گئے۔ 1809ء میں اس باہمی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو عثمان دان فودیو کی موت (1817ء) تک نا کام طور پر جاری رہا۔ احمد و بلو انھیں عثمان دان فودیو کے لڑکے تھے جن کو اپنے باپ سے ایک طرف تبلیغی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader