Urdu book · تاریخ کا سبق

سیاست کے ساتھ دینی خدمت

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

جذبہ کی وراثت ملی تھی اور اسی کے ساتھ سیاسی جہاد کی بھی۔ عجیب بات ہے کہ احمد و بلو نے اپنے والد کے انجام سے کوئی سبق نہیں لیا، اور اسی تجربہ کو پھر دہرایا جو ان کے پیش رو کے زمانہ میں ناکام ہو چکا تھا۔ ’’میری کوششوں کی وجہ سے دسمبر 1963ء سے لے کر مارچ 1965ء تک تقریباً دو لاکھ (186930) مشرکوں نے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سماجی زندگی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔‘‘ یہ نائیجیریا کے سابق وزیرِ اعظم الحاج احمد و بلو (1966-1901ء) کے الفاظ ہیں جو انھوں نے (1384ھ 1964ء) کی موتمر اسلامی (قاہرہ) میں تقریر کرتے ہوئے کہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ افریقہ کی لگ بھگ 22 کروڑ آبادی میں دس کروڑ 80 لاکھ مسلمان ہیں۔ ’’اگر مسلم ملکوں کی مدد شامل حال ہو تو افریقہ کے مشرک قبائل میں تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے۔ اور اس کا ثبوت خود میری وہ کامیابیاں ہیں جن کا میں نے ابھی حوالہ دیا۔‘‘ احمد و بلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ اپنے دادا عثمان دان فو دیو سے ملا تھا۔ 19 ویں صدی میں جب پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے علاقوں میں گھسنا شروع کیا تو افریقہ میں اس کے ردّ عمل کے تحت بہت سے مصلحین اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھیں میں سے ایک عثمان دان فو دیو بھی تھے۔ انھوں نے گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی اصلاح اور استعماری طاقتوں کے خلاف جہاد کی زبردست تحریک چلائی۔ دریائے نائیجیریا کے کنارے کنارے دور تک انھوں نے اسلام کا جھنڈا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page