سیاست کے ساتھ دینی خدمت
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
لہرادیا تھا۔ 1833ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے یہ مہم جاری رکھی۔ نائجیر یا کی راجدھانی لاگوس سے لے کر شمال میں لکوٹو شہر تک مقابلے جاری تھے۔ تاہم آخری فیصلہ انگریزوں کے حق میں ہوا۔ انھوں نے 1886ء میں سلطان محمد طاہر اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے کر نائجیریا پر قبضہ کر لیا۔ احمد و بلو انھی روایت کے درمیان موجودہ صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ سو کو تو کے امیر قبیلہ تھے۔ ابھی وہ دس سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی ماں ایک دیندار خاتون تھیں۔ قدیم رواج کے مطابق پہلے انھیں قرآن حفظ کرایا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے عربی مدرسہ میں داخلہ لیا اور 21 سال کی عمر تک دینی تعلیم سے فراغت حاصل کر لی۔ 1926ء میں مغربی تعلیم کے لیے کاسٹینا کالج میں داخل ہوئے اور انگریزی زبان اور ریاضیات کی تعلیم مکمل کی۔ خاندانی وراثت کے تحت ان کو سکوتو کا امیر بنایا گیا۔ 1934ء میں سلطان حسن نے ان کو شہر رباح کا گورنر مقرر کیا۔ 1938ء میں جب سلطان حسن کا انتقال ہوا تو نئے سلطان ابوبکر نے احمد و بلو کو سکوتو کے ”ساردونا“ (sardauna of sokoto) کے منصب پر سرفراز کیا۔ 1948ء میں انھوں نے لندن کا سفر کیا اور آزادی کے مسائل پر حکومت برطانیہ سے گفتگو کی۔ 1963ء کی مردم شماری کے مطابق نائجیریا میں 146 ملین مسلمان ہیں، عیسائی 19 ملین اور دوسرے قبائل 10 ملین ہیں۔ شمالی نائجیریا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں اور جنوبی نائجیریا میں زیادہ تر عیسائی۔ احمد جو شمالی نائجیریا کے لیڈر تھے ۔ وہ مغربی استعمار کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہے۔ 1960ء میں نائجیریا آزاد ہوا تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader