Urdu book · تاریخ کا سبق

سیاست کے ساتھ دینی خدمت

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

وہاں ایک فیڈرل گورنمنٹ بنی۔ اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر ابو بکر تقوا ابلیوا (1966-1912ء) تھے۔ احمد و بلو شمالی نائیجیریا کے وزیرِ اعظم مقرر ہوئے۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے نمائندے اور مسلمان اور عیسائی دونوں شریک تھے۔ احمد و بلو نے مسلمانوں کی اصلاح و تعمیر اور عیسائیوں میں اسلام کی اشاعت کا کام پوری توجہ سے شروع کیا۔ اس کے نتائج بھی نکلنے شروع ہوئے۔ مگر انھیں زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ 15 جنوری 1966ء کو 25 فوجی افسران نے مل کر بغاوت کردی۔ اس بغاوت میں ابو بکر تقوا ابلیوا احمد و بلو اور بہت سے مسلمان اور عیسائی مارے گئے۔ اس کے بعد نائیجیریا میں فوجی حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ جنرل ارونسی تھے۔ مگر انھیں بھی صرف چھ ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ 29 جولائی 1966ء کو دوسری فوجی بغاوت ہوئی اور وہ بھی ختم کر دیے گئے۔ نائیجیریا میں دو مسئلے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد ستر فی صد ہے۔ مگر تعلیم، اقتصادیات اور تنظیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے عملاً اکثر شعبوں پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ انھیں تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلند کیا جائے تا کہ وہ ملک میں اپنا جائز مقام پاسکیں۔ دوسرا کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر 10 ملین مشرک قبائل میں اسلام کی اشاعت ہے۔ یہ دونوں کام احمد و بلو نے شروع کر دیے تھے۔ مگر ان کی شہادت سے جو سبق ملتا ہے، وہ یہ کہ تعمیر و تبلیغ کا کام سیاست کو لے کر نہیں کیا جاسکتا، احمد و بلو اگر سیاست سے الگ ہو کر کام کر رہے ہوتے تو وہ 20-25 برس میں نائیجیریا کی تاریخ بدل دیتے ۔ مگر سیاست کے خارزار نے انھیں بھی ختم کر دیا اور ان کے ملی اور اسلامی کام کو بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page