Urdu book · تاریخ کا سبق

سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت کوئی مرد عورت اپنی اولاد کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہی سیاست کا معاملہ بھی ہے۔ کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اپنے پیدا کردہ سیاسی حالات کے منطقی نتائج سے انکار کر سکے۔ ایسی ہر کوشش ہمیشہ الٹی پڑتی ہے اور صرف محرومیوں میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ اس کو پاکستان کی مثال سے سمجھیے۔ پاکستان تقسیم کے نعرہ پر بنا۔ مسلمانوں کی طرف سے ”ڈائریکٹ ایکشن“ کی نوبت آجانے کے بعد بالآخر یہ تحریک کامیاب ہوئی۔ اور فریق ثانی نے اس مطالبہ کو مان لیا کہ آبادی کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کر دیا جائے ۔ مگر 1946ء میں جب تقسیم کی سرحدیں طے کرنے کا وقت آیا تو پاکستانی لیڈروں کو نظر آیا کہ تقسیم کے اصول کے مطابق ”جونا گڑھ“ اور ”حیدر آباد“ جیسی مسلم ریاستیں ان کے ہاتھ سے نکل رہی ہیں۔ اب انھوں نے کوشش کی کہ ویسی ریاستوں کے معاملہ میں الحاق کے اصول کو مبہم رکھا جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ بیک وقت کشمیر پر بھی قبضہ کر لیں گے اور حیدر آباد پر بھی۔ کشمیر کو اس دلیل سے کہ وہاں کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، حیدر آباد کو اس لیے کہ وہاں کا حکمران مسلمان ہے۔ مگر یہ خود اپنے پیدا کردہ حالات کے منطقی نتائج سے انکار کرنا تھا۔ چنانچہ اس کا انجام الٹا ہوا۔ دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش میں پاکستان ایک کو بھی نہ پکڑ سکا۔ پاکستان بنا تو وہ دو ایسے الگ الگ حصوں پر مشتمل تھا، جن میں سے ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page