سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
(مشرقی حصہ) واضح طور پر دوسرے کے مقابلہ میں عددی اکثریت رکھتا تھا۔ بنگالی لیڈر حسین شہید سہروردی کی کوششوں سے پاکستان کے سابقہ دونوں حصوں میں سیاسی مساوات (Parity) قائم ہوگئی۔ صدر ایوب خاں کی بنیادی جمہوریت میں یہ مساوات ایک مسلمہ سیاسی اصول کے طور پر باقی رہی۔ اس کے مطابق مشرقی حصہ کے چالیس ہزار اور مغربی حصہ کے چالیس ہزار نما ئندہ ووٹر ملک کی حکومت کا فیصلہ کرتے تھے۔ مگر پاکستان کے رہنما اس نظام کے خلاف ہو گئے۔ انھیں صدر ایوب کو اقتدار سے ہٹانا تھا اور اس کی سب سے آسان تدبیری تھی کہ عوام کو یہ کہہ کر ان کے خلاف بھڑک دیا جائے کہ بنیادی جمہوریت قائم کر کے انھوں نے عوام کے سیاسی حقوق کو غصب کر رکھا ہے۔ اب پاکستان میں تحریک جمہوریت چلائی گئی۔ بے پناہ نقصانات کے بعد بالآخر تحریک کامیاب ہوئی۔ صدر ایوب اور ان کی بنیادی جمہوریت دونوں ختم ہو گئے۔ 1970ء میں پاکستان کا پہلا عوامی انتخاب ہوا جس میں ہر بالغ کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کی آبادی چونکہ زیادہ تھی، اس کے نمائندوں کی تعداد مرکزی اسمبلی میں زیادہ (55 فی صد) ہوگئی۔ مساوات ٹوٹ گئی اور بنگلہ دیش نے پاکستان کے اوپر سیاسی بالاتری حاصل کر لی۔ اب پاکستان کے رہنما چیخ اٹھے۔ انھوں نے جمہوریت کے فتنہ کو یہ سمجھ کر جگایا تھا کہ وہ خود ان کو اقتدار تک پہنچانے کا زینہ بنے گی، نہ اس لیے کہ بنگلہ دیش کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader