Urdu book · تاریخ کا سبق

سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

سیکولر لیڈر اس کو استعمال کر کے پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ پر قابض ہو جائیں گے۔ انھوں نے چاہا کہ جمہوریت کو دوبارہ ’’پابند جمہوریت‘‘ بنائیں اور مشرقی اور مغربی حصہ میں مساویانہ نمائندگی کا اصول قائم کریں جیسا کہ وہ پہلے قائم تھا۔ مگر عوامی جمہوریت کو زندہ کرنے کے بعد اس قسم کی کوشش خود اپنے پیدا کردہ حالات کے نتائج سے بھاگنے کے ہم معنی تھا۔ بنگلہ دیش عوامی رائے دہی کے اصول کے تحت ملی ہوئی سیاسی فوقیت کو چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ جمہوری منطق کے تحت پیدا شدہ نتائج کے انکار نے نئے شدید تر مسائل پیدا کیے۔ دونوں حصوں میں کش مکش بڑھتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ وہ نوبت آئی کہ خود پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ 1978ء میں یہ تجربہ اب ایک نئی شکل میں دہرایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دوسرے عوامی انتخاب (1977ء) میں بھٹو پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ حزبِ مخالف کے لیے یہ سیاسی محرومی ناقابل برداشت تھی۔ اس نے الیکشن کے نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے نعرہ لگایا کہ بھٹو پارٹی دھاندلی کر کے الیکشن جیتی ہے۔ ورنہ پاکستانی عوام کی ننانوے فی صد اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ انھوں نے ’’دوبارہ الیکشن کراؤ‘‘ کے نام پر پاکستانی شہروں میں ہنگامے شروع کر دیے۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھا کر فوجی افسروں نے بغاوت کر دی اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے جنرل محمد ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ وہ صرف ریفری کے طور پر حکومت کے ایوان میں داخل ہوئے ہیں، اور بہت جلد منصفانہ الیکشن کرائے جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page