سیاسی حرص کے بجائے سیاسی قناعت
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان قومی اتحاد کے لیڈر خوش ہو گئے اور 1977ء کو ’’عام الفتح‘‘ قرار دیا۔ مگر بھٹو پارٹی کے جلسوں میں عوام کی بھیڑ نے بتایا کہ بھٹو کے بے اقتدار ہونے کے باوجود عوام اب بھی اسی کے ساتھ ہیں اور اگر الیکشن ہوا تو بھٹو پارٹی ہی دوبارہ برسراقتدار آجائے گی۔ جس جمہوریت کو لانے کے لیے پاکستانی رہنماؤں نے چوتھائی صدی خرچ کر دی تھی، وہ جب آئی تو معلوم ہوا کہ وہ ساری کی ساری ’’بھٹو‘‘ جیسے لوگوں کے حصہ میں چلی گئی ہے۔ ان کو محسوس ہوا کہ ’’مسئلہ صرف جمہوری انتخابات کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ انتخابات کی پیش آمدہ مصیبت اور ان کے متوقع بھیانک نتائج کا بھی ہے۔‘‘ اب انھوں نے اپنے نعرے بدل دیے۔ انھوں نے کہنا شروع کیا کہ ’’جمہوریت کو جلا ڈالو۔ لوگوں کی آزادیاں سلب کر لو۔ عمر کا کوڑا حرکت میں لاؤ‘‘ (المتبر، فیصل آباد، 3 اکتوبر 1978ء)۔ یہی پاکستان کے تمام مخالف بھٹور ہنماؤں کا ذہن ہے۔ کوئی اس بات کو برے الفاظ میں کہہ رہا ہے اور کوئی خوبصورت الفاظ میں۔ مگر ظاہر ہے کہ اس قسم کی سیاست خود اپنے پیدا کردہ حالات کے نتائج کو قبول نہ کرنا ہے۔ جب پاکستان میں عوامی جمہوریت کو زندہ کیا گیا ہے تو اب یہ ممکن نہیں کہ اس کے منطقی نتائج کو ظہور میں آنے سے روکا جاسکے۔ پاکستانی رہنماؤں کی یہ سیاست بلاشبہ ان کے لیے نہایت مہنگی پڑے گی۔ ’’نظام مصطفیٰ‘‘ اور ’’نظریہ پاکستان‘‘ جیسے الفاظ بول کر اس سیلاب کوروکا نہیں جاسکتا۔ اس قسم کی غلطی بار بار کیوں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سیاسی حرص ہے۔ ہمارے رہنما

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader