Urdu book · تصویر ملت

اعتراف کی اہمیت

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتراف کی اہمیت باکسنگ کے چیمپین محمد علی اپنے کو سب سے بڑا کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ۲۵ جنوری ۱۹۸۰ کو نئی دہلی کی پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے کو سب سے بڑا کیوں کہتے ہیں۔ محمد علی نے نرم اور متواضع لہجہ میں جواب دیا: میں سب سے بڑا نہیں، سب سے بڑا تو صرف خدا ہے (Only God is the greatest) انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی بات میں صرف بلیکٹی جم کے ذیل میں کہتا ہوں تاکہ مقابلہ کے وقت میرا کھیل دیکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ آدمی جمع ہوں۔ سفید فام امریکہ میں ایک کالا آدمی اس قسم کا بھڑکانے والا بیان (Provocatvie Statement) دے تو وہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مائل کرنے میں بہت کامیاب ہوتا ہے ٹائمس آف انڈیا ۲۶ جنوری ۱۹۸۰) آدمی اکثر ایسا کرتا ہے کہ وقتی مصلحت کی خاطر وہ کسی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آدمی اپنی اس نفسیات سے باخبر ہو۔ اور اس سے بھی کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بعد کو اس کا اعتراف کرے۔ محمد علی اگر اس بات کا اعلان نہ کرتے تو ہو سکتا ہے کہ ان کے معتقدین بعد کو یہ سمجھنے لگتے کہ محمد علی فی الواقع کوئی فوق البشر تھے یا ان کے اندر خدا حلول کر آیا تھا۔ مگر اپنی زبان سے کھلا ہوا اعلان کر کے انھوں نے ہمیشہ کے لئے اپنے معتقدین کو اس فتنہ سے بچا لیا۔ اسی سے ملتی جلتی صورت موجودہ زمانہ میں مسلم قائدین کے یہاں بھی پیش آئی ہے۔ مگر ہمارے قائدین میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے اس صاف گوئی کی مثال پیش کی ہو۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اسلام کو سیاسی نظام کی حیثیت سے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ دین کے معنی وہی ہیں جو اسٹیٹ کے ہیں اور خدا کے پیغمبر جو دنیا میں آئے اسی لئے آئے کہ خدائی قانون کی بنیاد پر ایک مکمل اسٹیٹ قائم کر دیں، یہ بات ایسی ہے جس کے لئے قرآن وسنت میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ تاہم ایک خاص وقت میں مسلمانوں کو ابھارنے کے لئے وہ بہت کار آمد ثابت ہوئی۔ اس سے ان کے اندر انقلاب کا مزاج پیدا ہوا۔ وہ مدافعانہ نقطہ نظر سے سوچنے کے بجائے اقدامی نقطہ نظر سے سوچنے لگے۔ جو لوگ اس فکر سے متاثر ہوئے وہ اگر چہ سیاسی ذوق کے تحت اسلام کی طرف مائل ہوئے تاہم کچھ اندرونی فطرت کا زور اور کچھ اسلامی روایات کے اثر سے ان میں اسلام کے دوسرے اوصاف بھی کسی نہ کسی درجہ میں پیدا ہو گئے۔ مگر اسلام کی تشریع مطلق طور پر درست نہ تھی محفوظ ترین بات جو اس کے بارے میں کہی جا سکتی ہے وہ کہ یہ وقتی حالات کے تحت اسلام کے بعض پہلوؤں کو شدت کے ساتھ بیان کرنا تھا۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے لوگ اگر بعد کو اس طرح کا اعلان کر دیتے تو اس سے کوئی خاص خرابی پیدا نہ ہوتی۔ مگر انھوں نے اس قسم کا اعلان نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان کے معتقدین نہ صرف یہ کہ اس کو مطلق تشریع دین سمجھ بیٹھے بلکہ اس کے بعد دوسری دوسری خرابیاں ان میں پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ مثلاً اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ان سیاسی طریقوں کو جائز سمجھ لینا جن کی کوئی گنجائش اسلام میں نہیں ہے۔ جب اسلام کا تصور ایک سیاسی نظام کا تصور ہو تو اس کو بروئے کار لانے کے لئے سیاسی طریقے اختیار کرنا کیوں ناجائز قرار پائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page