مصلحین کو برداشت نہ کرنا
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
مصلحین کو برداشت نہ کرنا یہود کے اندر جب بگاڑ آیا تو ان کے درمیان خدا نے دینی مصلحین اٹھائے جو ان کی غلطیوں پر ٹوکتے تھے اور ان کو صحیح راستہ دکھاتے تھے۔ مگر یہود نے مصلحین کور و کر دیا۔ انہوں نے ان کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ حتیٰ کہ انھیں قتل کر ڈالا۔ قرآن میں یہود کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ــ جو لوگ اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں اور پیغمبروں کو ناحق ہلاک کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں جو انھیں انصاف کا حکم دیتے ہیں، تم انھیں درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا (آل عمران ۲۲۔ ۲۱) یہود کی تاریخ بتاتی ہے کہ انھوں نے یسیعاہ نبی کا قتل کیا۔ یرمیاہ نبی کا قتل کیا۔ زکریا نبی کا قتل کیا۔ یحییٰ نبی کا قتل کیا۔ عیسیٰ مسیح کو بھی (اپنے خیال کی حد تک) قتل کر ڈالا۔ ایک حدیث ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ان الفاظ میں نقل کی ہے: عن ابی عبیدة بن الجراح قال قلت: یار سول ابو عبیدہ بن جراح کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا اللہ ای الناس اشد عذابا یوم القیامۃ کے رسول، قیامت میں سب سے زیادہ سخت عذاب قال رجل قتل نبیا او من امر بالمعروف کس کو ہوگا۔ آپ نے فرمایا وہ شخص جس نے نبی کو قتل و نهی عن المنکر۔ ثم قال رسول الله صلی اللہ کیا یا اس کو جو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے عليه وسلم یا ابا عبیدة قتلت بنواسرائیل رو کتا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثلاثة واربعین نبیا من اول النہار فی ساعة اے ابو عبیدہ یہود نے ایک صبح کو ایک وقت میں واحدۃ۔ فقام مأۃ وسبعون رجلا من بنی ۳۳ نبیوں کو قتل کیا۔ اس کے بعد ایک سو ستر اسرائیل فامروا من قتلهم بالمعروف و نہوهم آدمی بنی اسرائیل کے اٹھے اور انھوں نے قتل کرنے عن المنکر فقتلوهم جميعا من آخر النھارمن والوں کو بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا شروع ذلك اليوم (تفسیر ابن کثیر) کیا تو انھوں نے ان سب کو اسی دن شام تک قتل کر ڈالا جو لوگ اصلاح کا مقصد لے کر اٹھتے ہیں ان کو قوم کے بگاڑ پر تنقید کرنی ہوتی ہے۔ یہ تنقید لوگوں کے لئے بے حد ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے ان کی فخر اور گھمنڈ کی نفسیات کو چوٹ لگتی ہے، وہ ایسے مصلحین کے درپے ہو جاتے ہیں۔ وہ ان کو بدنام کرتے ہیں۔ ان کی معاشیات کو اجاڑتے ہیں۔ اس قسم کی کارروائیوں کے بعد بھی جب ان کی زبان بند نہیں ہوتی تو وہ ان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader