Urdu book · تصویر ملت

تعمیر یا تخریب

Urdu book, p. 325

By Maulana Wahiduddin Khan

پروگراموں کو بند کر کے صبح و شام ٹی وی کے اوپر صرف تلاوت قرآن کے پرو گرام نشر کرنے لگے تب بھی موجودہ حالت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے طویل زمانہ حکومت میں اس کا ایک تجربہ کیا گیا اور مکمل طور پر ناکام رہا۔ مثلاً ضیاء الحق صاحب نے کہا کہ ہندوستانی فلموں میں عریانی اور فحاشی ہوتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے پاکستان میں ہندوستانی فلموں پر مکمل پابندی لگا دی۔ مگر اس کے بعد جو فرق ہوا وہ صرف یہ تھا کہ جس ہندوستانی فلم کو اس سے پہلے لوگ پبلک ہاؤس میں یا ٹیلی ویژن سیٹ پر دیکھتے تھے، اس کو اب وہ ویڈیو کیسٹ کے ذریعہ خود اپنے گھر کے اندر روی سی آکر پر دیکھنے لگے۔ جنرل محمد ضیاء الحق کو پاکستان میں ساڑھے گیارہ سال تک مکمل اقتدار حاصل رہا۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے لے کر ہندوستان کے مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تک تمام لوگوں کے نزدیک وہ مرد حق اور مرد مومن تھے۔ مزید یہ کہ انھوں نے ٹیلی ویژن کی وزارت (وزارت اطلاعات) پوری طرح جماعت اسلامی کو دے دی۔ جماعت اسلامی کا وزیر اطلاعات اور جنرل ضیاء الحق کا فوجی ڈنڈا دونوں مل کر پاکستان میں ٹیلی ویژن کی برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کے باوجود ٹیلی ویژن کی برائی میں ایک فیصد بھی کمی نہیں ہوئی۔ بلکہ ایک اندازے کے مطابق اس میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس تجربہ نے واضح طور پر ثابت کیا کہ جماعت اسلامی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کا یہ نظریہ غلط ہے کہ ٹیلی ویژن را اور اس طرح کی دوسری سماجی برائیوں کی اصلاح حکومت کی طاقت سے ہوتی ہے۔ اگر یہ اصلاح حکومت کی طاقت کے ذریعہ ہونے والی ہوتی تو وہ اس سے پہلے اس وقت ہو چکی ہوتی جب کہ جماعت اسلامی کے وزیر اطلاعات اور " مرد حق ضیاء الحق" کو حکومت کی طاقت حاصل تھی۔ اور وہ اس کے ذریعہ ٹیلی ویژن اور دوسری سماجی برائیوں کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے لوگوں نے جو پتھر ٹیلی ویژن سیٹ پر مارے، وہ پتھر انھیں خود اپنے آپ پر مارنا چاہئے۔ انھیں چاہئے کہ جماعت اسلامی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے بے بنیاد سیاسی نظریات کا ایک پتلا بنائیں اور پاکستان کے ہر چوک پر رکھ کر اس کو سنگسار کریں ۔ یہی بے بنیاد نظریہ پاکستان میں " ٹی وی " جیسی برائیوں کو ختم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page